:
Breaking News

India News: پیلٹ گن معاملے میں ایف آئی آر، راہل گاندھی نے کہا- انصاف کی سمت پہلا قدم

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Alam Ki Khabar | Bihar News | Patna News | Samastipur News | پیلٹ گن سے زخمی ساحل کے معاملے میں دہلی پولیس نے ایف آئی آر درج کر لی۔ راہل گاندھی نے اسے انصاف کی سمت پہلا قدم قرار دیتے ہوئے دھرنا ختم کر دیا۔

ڈیسک، نئی دہلی، 21 اگست۔ دہلی میں پیلٹ گن سے زخمی ہوئے نوجوان ساحل لوچھب کے معاملے میں آخرکار ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ ایف آئی آر درج کرانے کے مطالبے کو لے کر لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے جمعہ کو پارلیمنٹ اسٹریٹ واقع پولیس اسٹیشن کے باہر کئی گھنٹے دھرنا دیا۔ پولیس کی جانب سے کیس درج کیے جانے کے بعد راہل گاندھی نے اپنا احتجاج ختم کر دیا اور ایف آئی آر درج ہونے کو انصاف کی سمت پہلا قدم قرار دیا۔

یہ معاملہ 20 جولائی کو جنتر منتر پر ہوئے طلبہ کے احتجاج سے متعلق ہے۔ احتجاج کے دوران پولیس کارروائی میں مبینہ طور پر پیلٹ گن استعمال کیے جانے کا الزام ہے۔ اسی دوران ساحل لوچھب زخمی ہوئے تھے۔ راہل گاندھی گزشتہ کئی ہفتوں سے اس معاملے کو اٹھاتے ہوئے زخمی نوجوان کے لیے انصاف اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔

ایف آئی آر کے بعد راہل گاندھی کا بیان

ایف آئی آر درج ہونے کے بعد راہل گاندھی نے کہا کہ یہ انصاف کی سمت پہلا قدم ہے۔ انہوں نے ساحل کی چوٹوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے جسم میں کئی پیلٹ موجود ہیں اور اس کی آنکھ میں بھی پیلٹ لگنے سے اس کی بینائی متاثر ہوئی ہے۔

راہل گاندھی نے کہا کہ ایک نوجوان کے ساتھ اتنا بڑا ناانصافی کا معاملہ سامنے آیا ہے اور اس کی شکایت پر ایف آئی آر درج ہونے میں کئی گھنٹے لگ گئے۔ ان کے مطابق پولیس افسر خود کیس درج کرنا چاہتے تھے، لیکن اوپر سے کارروائی میں رکاوٹ پیدا کی جا رہی تھی۔

کانگریس لیڈر نے سوال اٹھایا کہ اگر دہلی کے قلب میں واقع پولیس اسٹیشن میں کسی شہری کو ایف آئی آر درج کرانے کے لیے اتنی جدوجہد کرنی پڑے تو ملک کے دور دراز علاقوں اور چھوٹے شہروں میں عام لوگوں کی کیا حالت ہوتی ہوگی۔

'اوپر سے انصاف پر بریک لگا تھا'

راہل گاندھی نے الزام عائد کیا کہ پولیس افسر ایف آئی آر درج کرنا چاہتے تھے، لیکن اعلیٰ سطح سے منظوری نہ ملنے کی وجہ سے کارروائی آگے نہیں بڑھ پا رہی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایف آئی آر درج ہونے کے لیے مرکزی وزارت داخلہ کی اعلیٰ سطح سے منظوری لینی پڑی۔

تاہم، یہ دعوے راہل گاندھی کی جانب سے کیے گئے ہیں۔ پولیس یا وزارت داخلہ کی جانب سے اس الزام کی آزادانہ طور پر تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد اب اس معاملے میں پولیس کی تفتیش آگے بڑھے گی۔

ساحل کو کیسے لگی تھی پیلٹ؟

یہ پورا معاملہ 20 جولائی کو دہلی کے جنتر منتر پر ہوئے طلبہ احتجاج سے جڑا ہے۔ احتجاج کرنے والے طلبہ جنتر منتر سے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کر رہے تھے۔ اسی دوران سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران پیلٹ گن کے استعمال کا الزام سامنے آیا۔

ساحل لوچھب بھی احتجاج میں موجود تھے اور مبینہ پیلٹ لگنے سے زخمی ہوئے۔ راہل گاندھی نے اس کے بعد ساحل کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس کی چوٹوں کو نمایاں کیا تھا اور مرکز سے جواب طلب کیا تھا۔

راہل گاندھی کا سوال تھا کہ طلبہ کے خلاف پیلٹ گن استعمال کرنے کی اجازت کس نے دی اور اس کارروائی کے لیے ذمہ داری کس سطح پر طے کی گئی تھی۔

کن دفعات کے تحت درج ہوئی ایف آئی آر؟

دہلی پولیس نے ساحل کے معاملے میں بھارتیہ نیائے سنہتا یعنی BNS کی دفعہ 118 اور 125 کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے۔

دفعہ 118 خطرناک ہتھیار یا ذرائع سے جان بوجھ کر چوٹ یا سنگین چوٹ پہنچانے سے متعلق ہے، جبکہ دفعہ 125 کسی شخص کی جان یا ذاتی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے سے متعلق ہے۔

اب پولیس تفتیش کے دوران واقعے کے حالات، موقع پر موجود اہلکاروں، دستیاب ویڈیو فوٹیج، عینی شاہدین کے بیانات اور زخمی نوجوان کی طبی رپورٹ سمیت دیگر شواہد کا جائزہ لے سکتی ہے۔

کئی گھنٹوں کے دھرنے کے بعد ختم ہوا احتجاج

راہل گاندھی جمعہ کو ساحل کو اپنے ساتھ لے کر پولیس حکام سے ملنے پہنچے تھے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ متاثرہ نوجوان کی شکایت پر فوری طور پر ایف آئی آر درج کی جائے۔

جب فوری طور پر ایف آئی آر درج نہیں ہوئی تو راہل گاندھی نے پولیس دفتر کے باہر دھرنا شروع کر دیا۔ ان کے ساتھ کانگریس کے دیگر رہنما اور کارکن بھی موجود تھے۔ پرینکا گاندھی بھی موقع پر پہنچی تھیں۔

راہل گاندھی نے واضح کیا تھا کہ جب تک کیس درج نہیں کیا جاتا، وہ وہاں سے نہیں اٹھیں گے۔ بعد میں پولیس کی جانب سے ایف آئی آر درج کیے جانے کے بعد انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا۔

عمر عبداللہ نے راہل گاندھی کی حمایت کی

جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی راہل گاندھی کے دھرنے پر ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کانگریس لیڈر کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کی ذمہ داری حکومت سے جواب طلب کرنا اور اسے جوابدہ بنانا ہے۔

عمر عبداللہ نے کہا کہ راہل گاندھی وہی کر رہے ہیں جس کی ملک کے عوام اپوزیشن لیڈر سے توقع کرتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ راہل گاندھی اسی طرح حکومت سے جواب طلب کرتے رہیں گے۔

بی جے پی نے احتجاج پر سوال اٹھائے

دوسری جانب بی جے پی نے راہل گاندھی کے احتجاج پر سوال اٹھائے ہیں۔ بی جے پی کی جانب سے کہا گیا کہ معاملے کی جانچ پہلے ہی جاری ہے اور اس کے باوجود پولیس اسٹیشن کے باہر دھرنا سیاسی دباؤ پیدا کرنے کی کوشش ہے۔

بی جے پی کا موقف ہے کہ واقعے سے متعلق تحقیقات کو اپنی رفتار سے آگے بڑھنے دینا چاہیے، جبکہ کانگریس کا کہنا ہے کہ متاثرہ نوجوان کی شکایت پر ایف آئی آر درج کرنا اس کا قانونی حق ہے۔

سپریم کورٹ کی کمیٹی بھی کر رہی ہے جانچ

20 جولائی کے احتجاج کے دوران مبینہ طور پر طاقت کے ضرورت سے زیادہ استعمال کے الزامات کی جانچ کے لیے سپریم کورٹ کی جانب سے بھی ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

اس طرح اب معاملے میں دہلی پولیس کی ایف آئی آر کے ساتھ ساتھ اعلیٰ سطحی جانچ بھی اہم ہوگی۔ ایف آئی آر درج ہونے سے شکایت کو باقاعدہ تفتیش کی بنیاد مل گئی ہے، لیکن اصل ذمہ داری کا تعین تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ہو سکے گا۔

اب تفتیش میں کیا ہوگا؟

ایف آئی آر درج ہونے کے بعد پولیس کے سامنے کئی اہم سوالات ہوں گے۔ سب سے پہلے یہ معلوم کرنا ہوگا کہ احتجاج کے دوران پیلٹ گن کا استعمال کس صورت حال میں کیا گیا اور کیا اس کارروائی کے لیے مقررہ قواعد و ضوابط پر عمل کیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ پولیس موقع پر موجود اہلکاروں کے بیانات، ویڈیو ریکارڈنگ، عینی شاہدین کی گواہی اور ساحل کی میڈیکل رپورٹ کا جائزہ لے سکتی ہے۔

اگر تحقیقات میں کسی اہلکار یا دوسرے شخص کی ذمہ داری سامنے آتی ہے تو اس کے مطابق مزید قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ فی الحال ایف آئی آر کا اندراج راہل گاندھی کے مطالبے کی تکمیل ہے، لیکن معاملے کا حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے۔

خصوصی تبصرہ

ایف آئی آر آغاز ہے، انجام نہیں

ساحل لوچھب کے معاملے میں ایف آئی آر درج ہونا یقیناً ایک اہم پیش رفت ہے، لیکن اسے انصاف کا آخری مرحلہ نہیں کہا جا سکتا۔ ایف آئی آر کے بعد اصل امتحان پولیس کی تفتیش کا ہے۔

اگر تحقیقات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پیلٹ گن کا استعمال قواعد کے خلاف کیا گیا یا کسی اہلکار کی کارروائی سے نوجوان کو غیر ضروری نقصان پہنچا تو ذمہ داری طے ہونی چاہیے۔ دوسری جانب اگر کارروائی ضابطے کے مطابق ہوئی تھی تو اس کی حقیقت بھی تفتیش کے ذریعے سامنے آنی چاہیے۔

یہ معاملہ اب صرف سیاسی الزام تراشی تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ ایک نوجوان کی آنکھ اور جسم میں لگی پیلٹس سے متعلق سوالات کا جواب شفاف طریقے سے ملنا ضروری ہے۔

راہل گاندھی کے احتجاج سے سیاسی دباؤ ضرور بڑھا ہے، لیکن اب اصل توجہ شفاف تحقیقات اور ذمہ داری کے تعین پر ہونی چاہیے۔ عوام بھی یہی جاننا چاہتے ہیں کہ واقعے میں آخر کیا ہوا اور اس کے لیے ذمہ دار کون تھا۔

یہ بھی پڑھیں

جنتر منتر احتجاج کے دوران پیلٹ گن کے استعمال سے متعلق تفصیلی خبر پڑھیں۔

راہل گاندھی کی جانب سے زخمی طالب علم کے لیے انصاف کے مطالبے سے متعلق سابقہ خبر پڑھیں۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *